the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

  نئی دہلی ، 05 جنوری (يو اين آئی) وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے تیسری بار وزيراعظم بننےسے  انکار کے بعد اب آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئى سى سى)کی 17 جنوری کو یہاں ہونے والی میٹنگ میں پارٹی نائب صدر راہل گاندھی کو آئندہ عام انتخابات ميں پارٹی کےوزیر اعظم کے عہدے کى اميدوارى پر مہرتصديق ثبت کرنے کا پورا امکان ہے۔کانگریس پارٹى ميں کافی وقت سے مسٹر گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنائے جانے کا مطالبہ ہو رہا ہے  حال میں چار رياستوں کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی ہزيمت کے بعد اس مطالبہ نے مزيد زور پکڑليا اور اس کے کچھ سینئر لیڈروں کا بھى موقف ہے کہ کانگریس کو اپنے امیدوار کا اعلان کردينا چاہیے ۔ اس طرح کی قياس آرائياں بھی  زور پکڑ رہی تھیں کہ پارٹی عام انتخابات سے قبل ہی مسٹر گاندھی کو وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا سکتی ہے لیکن مسٹر سنگھ نے ان قياس آرائيوں پر روک لگا دى ہے۔
چار رياستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے دن کانگریس کی صدر سونیا گاندھي کو کہنا پڑا تھا کہ پارٹی مناسب وقت پر اپنےوزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار کا اعلان کرے گی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر سنگھ کے وزیر اعظم کے طور پر تیسری اننگز نہ کھیلنے اور انتخابات کے بعد نئے وزیر اعظم کو اقتدار منتقل کرنے کو ليکر  جمعہ کو کئے گئےاعلان کے بعد پارٹی کے لئے مسٹر گاندھی کى امیدوارى کا اعلان کرنا آسان ہوگا اور اس اعلان کے لیے اے آئی سی سی کا پلیٹ فارم زیادہ مناسب ہو گا۔
ڈاکٹر سنگھ نے مسٹر راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے  کےلئے موزوں بتا کر ان کی امیدواری کے عنديہ ديا تھااور اس کے فورا بعد کانگریس نے بھی ایسے ہی اشارہ دیئے۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل جناردن دویدی نے کہا کہ پارٹی کا يہ موقف رہا ہےکہ محترمہ سونیا گاندھی کے بعد پارٹی میں مسٹر گاندھی دوسرے نمبر پر ہیں ۔ جب بھي پارٹی میں وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کے بارے میں سوال اٹھے گا تو پوری پارٹی چاہے گی کہ مسٹر گاندھی یہ عہدہ سنبھاليں۔
مسٹر دویدی نے کہا کہ جہاں تک اصولوں کی بات ہے پوری پارٹی اور پوری دنیا جانتی ہے کہ جب بھی کانگریس میں وزیر اعظم کے عہدے کی دعویداری کا سوال اٹھے گا تو مسٹر گاندھی کا نام سرفہرست ہوگا لیکن سیاسی پارٹيوں کچھ ضابطہ اور اصول ہوتے ہيں۔
پارٹی کے نوجوان لیڈروں کا اس بات پر  پہلے سے زور رہا ہے کہ مسٹر گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار قرار دياجائے ۔ ان کا خیال ہے کہ پارٹی انتخابات میں وزیر اعظم کے اعلان کے ساتھ  اترے گى تو اسےفائدہ ہوگا۔
     چار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد مسٹر گاندھی نے جو سرگرمی دکھائی ہے اس سے پارٹی کارکنوں میں کافی جوش ہے۔
لوک پال بل پاس کرنے ، آردش گھوٹالے پر واضح موقف اختيار کرنے،دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کو حمايت اور سرماريہ داروں کے اجلاس میں اقتصادی محاذ  پر مسٹر گاندھی نے  اپنےمضبوط عزائم کا مظاہرہ کياہے۔
کانگریس کی حکومت والی رياستوں کے وزرائے اعلى کی میٹنگ طلب کرکےمسٹر گاندھى  نے انہیں مہنگائی اور بدعنوانی سے نمٹنے کے لئے ہدایات بھی ديں ۔اس سے پارٹی کو لگ رہا ہے کہ اب مسٹر گاندھی کى امیدوارى کے اعلان میں تاخير نہیں ہونى چاہئے۔مسٹر گاندھی کو پارٹی میں بڑاعہدہ دینے کےزبردست مطالبہ کے بعد انہیں گزشتہ سال جنوری میں جے پور اجلاس کے دوران پارٹى کا نائب صدر بنایا گیا تھا۔اس کے بعد سے مسٹر گاندھی پارٹی میں اہم فیصلوںمیں نماياں کردار ادا کر رہے ہيں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.