the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

.شمس تبریز قاسمی 
یٹر بصیرت آن لائن(انگریزی)

بر صغیرمیں یہ قدیم روایت چلی آرہی ہے کہ یہاں کسی بھی ہستی کا اعتراف ان کی زندگی میں نہیں کیا جا تا ہے،البتہ ان کی مو ت کے بعد پتہ چلتا ہے یہ کو ن تھا اور کیا تھا۔ ہزاروں ایسی شخصیات ہیں جو اپنے وقت کی نابغۂ روزگار ہستی تھی،ہر میدان کے شہشوار تھے۔ اپنے معاصر ین اور نئی نسل دونوں کے لئے مشعل راہ تھے۔ لیکن معاصرانہ تعصب کے سبب ان کی زندگی میں لوگ قدر شناس نہیں بن سکے ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا، ان کے بتلائے ہوئے طریقے کو ٹھکرادیا، البتہ ان کی مو ت کے بعد ہر کسی نے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے ،انہیں اس دور کے مسیحا کے لقب سے نوازا ہے، ان کی کمی اور خلا کا اعتراف کیا ہے، لیکن اکیسویں صدی میں یہ روایت بدل رہی ہے، بے مثال اور نابغہ روزگار شخصیات کا اعتراف ان کی زندگی کی میں شروع ہو گیا ہے، کئی اہم خوش نصیب شخصیات ہیں جن پر ان کی زندگی میں سمینار منعقد ہوا ہے اور کئی ایک کی زندگی کتابی شکل میں با حیات رہتے ہوئے ان کے نگاہوں کے سامنے آگئی ہے۔
یہ سلسلہ بیسوی صدی کے اخیر میں شروع ہوا ہے جس کی اہم مثال حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ ہیں، جن کی حیات زندگی پر حضرت خواجہ مجذوب الحسن رحمۃ اللہ نے کتاب تصنیف کی اور بقید حیات انہوں نے اسے ملا حظہ فرمایا ۔مفکر اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ پر بھی ان کی زندگی میں پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے گئے ہیں۔ اکیسوی صدی کی شروعات میں مفتی ثنا الہدی ویشالوی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلوری شریف پٹنہ کا سوانحی خاکہ ڈاکٹر مشتاق صاحب نے مرتب کیا ہے ۔ان کے علاوہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی۔ ڈاکٹر عزیز برنی اور دیگر شخصیات پر بھی پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے گئے ہیں۔ مقالات اور مضامین لکھنے کا سلسلہ اور زیادہ ہے بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ حالیہ نوں میں مردہ شخصیات پہ کم اور زندہ ہستیوں پہ زیادہ لکھا جا نے لگا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی محترم عارف اقبال صاحب کی تازہ تصنیف وتالیف’’ باتیں میر کارواں کی‘‘ہے، جس میں انہوں نے موضوع سخن رہبر ملت حضرت مولاناسید نظام الدین صاحب دامت بر کاتہم(امیر شریعت سادس بہار اڑیسہ جھارکھنڈ و جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) کو بنا یا ہے ،اور ان کی زندگی کا ہر گوشہ واضح کر دیا ہے۔
اسی کی تشریح مفکر اسلام حضرت مولاناسید محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے الفاظ میں یو ں کی ہے کہ’’ ایک وقت تھا کہ شخصیت کو اپنی داستاں زندگی لکھوانے کا شوق ہو تا مرنا پڑ تا تھا۔ تب جا کہ کہیں کوئی اہل قلم سوانحی خاکہ میں رنگ بھر تا تھا مگر اب یہ روایت چل پڑی ہے اور عزیزوں کی یہ خیال آجاتا ہے کہ زندگی ہی میں اپنے بڑوں کی زندگی کو محفوظ کر دیا جائے یہ اچھی جہت ہے اس طرح بڑوں کے حق اداکرنے کرانے کا موقع ہاتھ آجاتا ہے اور بڑوں کو یہ صدمہ بھی نہیں ستا تا کہ مر نے کے بعد پتہ نہیں کوئی یاد کر ے گا یا نہیں، پھر عزیزوں کی یہ جرأت تحریر اور جسارت اقدام مردہ خواری کی روایت سے کامیاب اور خو شگوار بغاوت ہے۔(ماخوذ از کتاب)
’’باتیں میر کارواں کی‘‘ منفرد اسلوب کی حامل کتاب ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب سوانحی خاکو ں میں یہ نایاب اور ممتاز ہے،بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ اس طرز کا سوانحی خاکہ اب تک نہیں آسکا ہے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔
عارف اقبال صاحب کی یہ کتاب ہر اعتبار سے منفرد اورخاکہ نگاری کے ساتھ تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ نیا پن بھی محسوس ہوتا ہے۔ جس سے کتاب کی اہمیت میں دو گنااضافہ ہو گیا ہے۔ اپنی پہلی تصنیف کیلئے انہو ں نے جس ہستی کا انتخاب کیا ہے،بلاشبہ وہ ملت اسلامیہ کیلئے مشعل راہ ہے اور ہر کسی کو ان کی قیادت ،بزرگی ، تقوی، طہارت ، علم و عمل اور تہذیب و تمدن میں فو قیت رکھنے کا اعتراف ہے، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے مولانا کے اس سوانحی خاکہ پر اظہارمسرت کیا ہے اور اپنی تحریر کتاب میں شامل اشاعت کر نے کے لئے زیب قرطاس کی ہے۔
زیرنظر کتاب کل بارہ ابواب پر مشتمل ہے اور اس کا ہر باب خود مستقل ایک کتاب ہے جس کودر یا بکوزہ پر عمل کر تے ہوئے اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے۔
مؤلف کتاب نے ’’پہلے باب‘‘میں امیر شریعت سے لئے گئے خاص انٹر ویو کوپیش کیا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کسی بھی شخصیت سے لیا گیا انٹر ویو اس کی فکری بالید گی اور ذہنی پردار ز تک رسائی حا صل کرنے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ انٹر ویوتقریبا ۶۳ سوالوں پر مشتمل ہے اور ہر ایک کا حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب نے تشفی بخش جواب دیا ہے، ایسا بھی نہیں ہے کہ عارف اقبال نے انٹر ویو کے دوران عقیدت و محبت کو ملحوظ رکھا ہے ۔درمیان انٹرویو انہوں نے امیر شریعت سے کئی تلخ سوالات بھی پوچھے ہیں، جس کے بارے میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ کسی کی خدمات سے متاثر ہو کر ان کی زندگی کو مرتب کر نے والا شخص ان سے یہ تلخ سوالات بھی کر سکتا ہے؟ لیکن عارف اقبال صاحب نے اس جر أت مندی اور جسارت کا بھی مظاہرہ کیا ہے،اور ایک غیر جانب دار صحافی کا بھی پورا حق ادا کیا ہے۔
’’دوسرا باب‘‘ میں مؤلف کتاب نے حضرت امیر شریعت کا سوانحی خاکہ پیش کیا ہے، جو صرف تنہا امیر شریعت کا ہی سوانحی خاکہ نہیں ہے بلکہ ایک عہد کے جائز ے پر مشتمل ہے، سرزمین بہار کی تاریخ کا و افراد مقدار حصے کو اس میں سمو گیا ہے۔ یہ سوانحی خاکہ آپ کے خاندانی پس منظر تدریسی حالات اور طالبعلمانہ زندگی کے احتشام تک حالات پر مشتمل ہے، نیز مصنف نے آپ کے اخلاق و عادات کا تذکرہ بھی اسی باب میں کیا ہے ۔
’’تیسرے باب‘‘ میں امیر شریعت کے تدریسی زندگی کا جائزہ لیا گیا ہے ۔
’’چوتھے باب‘‘ میں صاحب کتاب نے امیر شریعت کی رہبری کے تذکرہ کا آغاز کیا ہے۔اس باب میں انہوں نے امارت شرعیہ کے مختصر تعارف کے ساتھ آپ کی امارت سے وابستگی،ناظم کے عہدے پر تقرری ،آپ کی بے لوث خدمات ،فسادزدہ علاقوں کا دورہ اور امیر شریعت رابع حضرت منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ اور قاضی القضاء حضرت مولانا قاضی مجاہد الا سلام صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ کے معتمد خاص کے ساتھ نائب امیر شریعت منتخب کئے جانے تک کے طویل سفر کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔
’’پانچویں باب ‘‘ میں انہوں آپ کے امیر شریعت کیلئے ہو نے والے انتخاب ، اس وقت پیش آنے والے حالات، اور اس دوران آپ کی اہم ترین خدمات ،امارت کو ترقی کے آسمان پر پہنچا نے والے واقعات، فکر و تدبر اور حکمت وعلمی کے ساتھ ،امارت شر عیہ کے سابق تمام امیر شریعت کا اجمالی تعارف اور ان کی مدت کار کوبھی سپرد قرطاس کیا ہے۔
’’چھٹے باب‘‘کا عنوان مؤلف کتاب نے خدمت خلق کے عنوان سے قائم کیا ہے، اس میں حضرت مولانا کی عوامی خدمات کا تذکرہ ، ہندوستان کے طول وعرض میں ہو نے والے فرقہ ورانہ فسادات کا ذکر اور پھر اس میں مسلمانوں کے لئے رفاہی سطح پر امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے امیر شریعت کے ذریعہ کئے گئے کام کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے، اس باب میں مصنف نے ہندوستان میں ہو نے والے تما م فرقہ ورانہ فسادات اور دیگر ناگہانی حادثات کا تذکرہ بھی کر دیا ہے جس کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز کی ہے۔
’’ساتوے باب‘‘ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے تعلق سے حضرت امیر شریعت کی خدمات کا تذکرہ کیا گیا ہے ،اس باب میں مسلم پر سنل لاء کے قیام، اس کے اغراص و مقاصد اور بورڈ کے تمام رہنماؤ و قائدین کے تذکرہ کے ساتھ حضرت امیر شریعت کی وابستگی اور عظیم خدمات کو سپرد قرطاس کیا گیاہے، حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب مارچ ۱۹۹۱ء کو اراکین عاملہ کے اتفاق رائے سے جنرل سکریٹری بنائے گئے تھے، اور ۱۹۹۱ء سے لیکر اس عہدے پر مسلسل فائز ہیں اور اپنی حکمت عمل کے ذریعہ روز بروز ہندوستانی مسلمانوں کے اس متحدہ پلیٹ فارم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
’’آٹھویں باب‘‘میں مصنف نے آپ کی اداروں سے وابستگی کا تذکرہ کیا ہے،کن اداروں کو آپ نے قائم کیا ہے،کس کے آپ سرپرست اور کہا ں آپ کی ذمہ داریاں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہے کہ یہاں آپ کے مختلف عہدوں اور مناصب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔دارالعلوم دیوبند،دارالعلوم ندوۃ العماء لکھنؤ،ا دارہ العلیا للمنظمات الاسلامیہ مکہ مکرمہ جیسے اداروں کے آپ رکن شوری ہیں۔ درجنوں بھرسے زائد مدارس آپ کی سرپرستی میں علم نبوت کی شمع جلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایک اسلامک کالجز آپ کی رہنمائی میں چل رہے ہیں ۔
’’نویں باب‘‘ کا عنوان ہے خامۂ ہفت رنگ۔یہ باب کئی ابواب کا مجموعہ ہے ۔ یہاں سے مصنف نے حضرت امیر شریعت کی ذاتی نگارشات خطبات ۔ شعرو شاعری کا تذکرہ شروع کیا ہے ،چنانچہ اس باب میں انہوں سب سے پہلے حضرت امیر شریعت کے ان فکر انگیز خطبات کو رکھا ہے جو مختلف سمیناروں اور اہم مجالس میں پیش کئے گئے ہیں۔
اس باب میں دوسرے عنوان کے تحت حضرت امیر شریعت کے زمانۂ طالب علمی کے مضامین کو انہوں نے جگہ دی ہے ،حضرت مولانا اپنی زمانۂ طالب علمی میں دارالعلوم میں طلبۂ بہار کی مر کزی انجمن سجاد لائبریری سے وابستہ تھے ،اور اس کے ترجمان ماہنامہ البیان کے ایڈیٹر ہوا کر تے تھے۔
تیسرا عنوان شخصی مضامین کا ہے۔ یہاں حضرت کے وہ اہم مضامین ہیں جس میں آپ نے حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی ؒ ، مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ، امیر شریعت حضرت مولانا شاہ سید منت اللہ رحمانی، اور دیگر شخصیات کے حوالے سے قلم بند کیا ہے۔
اس باب کے تحت چوتھا عنوان ہے اصلاحی مضامین کا جس میں قارئین کے استفادہ کیلئے حضرت امیر شریعت کے قلم سے لکھے گئے اصلاحی مضامین کو ذکر کیا گیا ہے۔ پانچواں عنوان ہے مکتوب نگاری کا: یہ دو حصوں میں منقسم ہے (الف) خیال خاطر(ب) نامے میرے نام۔ ہندوستان کی وہ تمام سیاسی ، سماجی اور علمی شخصیات جس کے پاس حضرت امیر شر یعت نے خط لکھا ہے یا انہوں نے حضرت امیر شریعت کو خط لکھا ہے وہ تمام اس باب میں مو جود ہے۔
’’دسویں باب‘‘کا عنوان ہے خبر نامہ کے ادرے۔جوآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ماہنامہ خبرنامہ نکلتا ہے،جس کے حضرت امیر شر یعت روز اول سے ہی ایڈیٹر ہیں اور ہر شمارے کاا داریہ عالمی، قومی، ملی سیاسی،سماجی ،تعلیمی، معاشی اور معاشرتی مائل پر لکھے گئے ایک پیغام رکھتا ہے۔ اس باب میں خبر نامہ کے لئے لکھے گئے حضرت کے تمام اداریوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
’’گیارہواں باب ‘‘میں عارف اقبال نے امیر شریعت کے اس خاص فن کو جمع کیا ہے جس سے بہت کم لوگ واقف ہیں،ہے،یعنی امیر شر یعت کی شاعری۔حضرت امیر شریعت بے پناہ خوبیوں اور کئی ایک میدان میں ماہر ہو نے کے ساتھ فن شعرو شاعری سے اچھا خاصا لگاؤ رکھتے ہیں، شروع زمانے سے آپ کو شعرو شاعری کا ذوق رہا ہے، اشعار کہنے کی بھی صلا حیت آپ میں بدرجہ اتم موجو د ہے، جب آپ دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم تھے اسی دوران ہی آپ نے اپنی شاعرانہ زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ آپ اپنا تخلص ’’فرحت گیاوی‘‘رکھتے تھے ۔
تاہم بہت ہی کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ امیر شریعت شاعر بھی ہیں، بقول حضرت امیر شریعت کے شاگرد رشیدمولانا وارث ریاضی قاسمی کہ’’حضرت الاستاذ کی شاعری پر پردہ پڑا ہواتھا لیکن اس کتاب کی آمد کے بعد یہ پر دہ اٹھ جائے گا،اس باب میں مصنف نے حضرت کی تقریبا ۷۱ تخلیقا ت کو پیش کیا ہے، جو نعت منقبت ، نظم ، غزل، ترانہ، خراج عقیدت اور متفرق قطعات و اشعار پر مشتمل ہے ۔
آخری’’بارہواں باب‘‘ کے تحت مصنف کتاب نے کل چار سرخیاں قائم کی ہے جس میں سے ہر ایک تفصیل طلب اور اہم ہے۔
(۱) رجال کا ر کی تلاش اور افراد سازی: اس کے تحت ان تمام حضرت کا مختصر ا سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے جن کا انتخاب امیر شریعت نے اپنی زندگی میں امارت کے لئے کیا اور اپنی فراست ایمانی اور حکمت ودانائی کے ذرسیعہ پہلی نظر میں یہ پہچان لیاکہ کو ن ہے امارت کے لئے بہتر ؟اور کس کا انتخاب اس کا زکو آگے بڑھانے کے لئے کیا جائے ۔
(۲) حضرت امیر شریعت سادس رفقاء امارت کی نگاہ میں:اس مسلمہ امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کسی شخص کی قیادت کی اچھائی کا صحیح اندازہ انہیں لوگوں کو ہوتا ہے جو ان کے ما تحت رہتے ہیں شب و روز کا اٹھنا بیٹھنا جن کے ساتھ ہو تا ہے ۔دور رہ کر کوئی کسی کے اخلاقیات کا صحیح اندازہ لگا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی قائدانہ صلاحیتوں کا۔ امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب دنیا کی ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں جن سے ان کے تمام رفقاء خوش اور مطمئن ہیں ،ان کے تحت کام کرنے والے کسی کو ان سے کسی طرح کی کوئی شکا یت نہیں ہے، خواہ مسلم پرسنل لا بورڈ ہو یا امارت شرعیہ۔
زیر نظر عنوان میں آپ کے ساتھ کام کر نے والے رفقاء کے تأثرات و خیالات کوپیش کیا گیاہے ،اس کے علاوہ اس باب میں ہندوستان کی ان تمام عظیم سیاسی ، سماجی،علمی اور ملی شخصیات کا تاثرات کو پیش کیا گیا ہے جس کاتعلق امیر شریعت سے ہے اور تقریبا سبھی نے کھلے دل سے امیر شر یعت کی سیاسی ،سماجی، علمی، رفاہی اور دیگر محاذ پر بے لو ث اور عظیم خدمات کا اعتراف کیا ہے۔
(۳)امیر شریعت شعراء کی نظر میں:اس باب میں ملک کے معروف شعراء کرام نے امیر شریعت کو اپنے کلام کے ذریعہ خراج تحسین پیش کی ہے،ساتھ ہی عارف اقبال کے اس اہم تخلیقات پر مبارک باد پیش کی ہے،شعراء کرام میں حافظ ڈاکٹر عبدالمنان طرزی،حسن نواب حسن،فضیل احمد ناصری قاسمی ،وارث ریاضی،مولانا ضیاالرحمن نعمانی،مولانا نبی اختر مظاہری،امان ذخیروی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
کل ملا کر یہ کہ پیش نظر کتاب ’’باتیں میر کارواں کی ‘‘بیک وقت کئی اوصاف کی حامل ہے۔ یہ صرف کسی شخصیت کا سوانحی خاکہ نہیں ہے بلکہ ایک عہد کی تاریخ ہے۔ اس میں قارئین کے لئے کئی زادے سے استفادہ کی گنجائش ہے ۔ اگر کوئی قائد قیادت کے اصول و ضوابط اور اپنی تربیت چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ مشعل راہ ثابت ہوگی ۔اگر کوئی سیاسی خدمات انجام دینا چاہتا ہے تو اس کی بھی یہ کتاب بھرپور رہنمائی کرے گی۔ صحافت وخطابت سے ذوق رکھنے والوں کے لئے بھی یہ عظیم تحفہ ہے۔ تعلیمی اور تدریسی زندگی بسر کر نے کے سنہرے اصول بھی یہاں موجود ہیں۔
الغرض ہر زاویے اور ہر ایک اعتبار سے یہ کتاب منفرد، نایاب، شاندار، لا جواب اور بے مثال ہے ۔اندازہ تحریر اچھو تا اور دلربا ہے۔ اسلوب نگارش ادیبابہ ہے ،جدید طرز تحریر کو اپنا یا گیا ہے ، خاکہ نگاری کی قدیم روش سے اجتناب کر تے ہوئے ایک نئی راہ اپنائی گئی ہے۔عارف اقبال صاحب نے حضرت امیر شریعت کیلئے ’’رہبر ملت‘‘ کے لقب کا بھی انتخاب کیا ہے ،جس کا استعمال اب تک کسی شخصیت کیلئے نہیں کیا گیا ہے، گویا انہوں نے امیر شریعت کیلئے ایک نئے لقب کی بھی تخلیق کردی ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کیا آپ کو لگتا ہے کہ بھارت لندن سے وجے مالیا کی حوالگی میں کامیاب ہو جائے گا؟

ہاں
نہیں
کہہ نہیں سکتے
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.