the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

بیدر۔27؍اکتوبر۔(اعتمادنیوز)۔
دین اسلام ایک نظام حیات ہے ایک تہذیب ہے ایک امتیازی ثقافت ہے جو اس دنیا میں انسان کی انفرادی اور سماجی زندگی کو سنوار نے کا سلیقہ سکھاتا ہے علم اور عمل سے ہی اسلامی زندگی کی تعمیر ممکن ہے ۔ اور اسکا شعار درس و تدریس ہے اس لئے فرما ن الہی ہے اللہ کے رسول ؐ نے علم کو زہد خالص پر فضلیت بخشی ہے ان خیالات کا اظہار جناب اے ایم اقبال انجینئرنے ہفتہ واری دینی تربیتی اجتماع منعقد ہ مسجد قادریہ نزد نہرو اسٹیڈیم بیدر سے اپنے خطاب کے دوران کیا ۔اور مزید بتایا کہ اسلام کی علمی تاریخ اس لحاظ سے ممتاز رہی ہے کہ اس نے انسانیت کے علمی کار ناموں سے آنکھیں بند کرنے کے بجائے ان کا اپنی تہذیب میں اس طرح جذب کیاہے کہ شر بھی خیر بن گیا ہے ۔ہمیں خلفائے راشدین کی سیرت سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت ہے جیسے حضرت ابو ابکر صدیقؓ نے اپنی تمام زندگی صداقت کا نمونہ پیش کیا۔ اور صدیق کا لقب پایا ۔اور حضرت عمرؓ نے ہجرت کے وقت شہادت حق کا نمونہ پیش کرنے فاروق کا لقب پایا۔ اور مولوی فہیم الدین رکن شوری جماعتِ اسلامی ہند نے نصیحت کی کہ قرآن کی جڑ اور بنیاد سورہ فاتحہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں۔ اور دانا اور زیرکی شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کئے ہوئے ہو اور مابعد موت کیلئے عمل کرے۔ اور عاجز و درماندہ شخص وہ ہے جو اپنی خواہشات نفس کا غلام ہو اور خدا سے اجر وثواب اور مغفرت کی آرزو رکھے ۔ اور دینی تبلیغ کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے اندر توسیع حلم اور برد باری کی صفت پیدا کریں اور افراد تنظیم سے دلی محبت رکھیں نرم گفتار ی پیدا کریں ، عفو درگذر سے کام لیں بے جاتنقید یں اور ناروا لزامات برداشت کریں مشاورت کے بغیر کوئی کام نہ کریں کیونکہ مشاورت سے افراد تنظیم کا اعتماد بحال رہتاہے۔ اور تنظیم کے صدرمیں یہ صفات موجود ہوں کہ تنظیم میں مختلف صلاحیتوں کے افراد ہوتے ہیں ان کی مناسبت سے ذمہ داریوں کا بار ڈالنا ورنہ تنظیم کے صدر کی کمزوری کی وجہہ سے تنظیم گمنامی کا شکار ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ باصلاحیت دو سرے لوگوں سے اپنا کام لے لیتاہے۔موصوف نے اسلام میں عورت کے مقام پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ قبول اعمال ،نجات و سعادت اور آخرت کی کامیابی کے بیان میں عورتیں مردوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ قرآنی تعلیمات ہی کے نتیجہ میں رسول ؐ کے زمانے سے عصر حاضر تک ہماری بہنیں معلمات، شاعرات ادیب،و خطیب اور شرکاء جدو جہد میں مصروف لوگوں کی تیمار داری کرنے والی دکھائی پڑتی ہیں نیز عبادت و زہد کے میدان میں مردوں کے شانہ باشانہ نظر آتی ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے کون واقف نہیں جن سے بڑے بڑے صحابہ کرامؓ نے علمی استفادہ کیاہے۔ آج امت مسلمہ بڑے نازک دور سے گذر رہی ہے۔ ایسے حالات میں عورتوں کے دماغ پر مہنگی شادیوں کا بوجھ ڈالنا، معاشی مسائل میں الجھانا ،وراثت کے جو وسیع حقوق اللہ نے اُنہیں دئے ہیں وہ ادا نہ کرکے سماج اور خاندانوں میں عورتوں کے ساتھ نا انصافی کرنا اللہ کے قہر کو دعوت دینا ہے اور سماجی اتحاد و اتفاق کیلئے خطرے کا الارم ہے جس کا سدباب ضروری ہے۔ ورنہ اسلام دشمن طاقتیں اسکا فائدہ اُٹھاکر شریعت کی جڑ کاٹنے میں ہماری ہی عورتوں کو استعمال کریں گی۔ کیونکہ حال ہی میں عورتوں کے ایک سروے رپورٹ میں 90%عورتوں نے مردوں کی ناانصافی سے تنگ آکر یکساں سول کوڈ کی حمایت پر خاموش اقرار کیاہے۔ جبکہ ہم تمام مرد و خواتین کو اس بات کا بھی علم ہونا چاہئے کہ نبی کریمؐنے فرمایا ہے کہ ’’جو میری سنت سے اعراض کریگا اور اسے ناپسند کریگا، وہ میرے طریقہ پر ہرگز نہیں ہے۔‘‘ موصوف نے اختتامی کلمات میں کہا کہ حقوق العباد یعنی انسانوں کے حقوق جو ایک دوسرے پر ہیں ان کو اللہ توبہ کرنے سے بھی معاف نہ کریگا بلکہ جس کا حق ہے اس سے معاف کرانا ہوگا۔ تب ہی وہ معاف ہوگا۔ ورنہ قیامت میں اس کو اد اکرنا پڑیگا اور وہاں ادائیگی کیلئے انسان کے پاس صرف نیکیاں ہی ہوں گی جو بدلہ میں دینی پڑیں گی۔***

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
مذہبی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.