the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

منعقدہ : 21۔22۔23 فروری 2016 ء
زیر انتظام : المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد
مسلمانوں کے لئے ایمانی اعتبار سے محمد رسول اللہ ﷺکی ذات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ؛ کیوں کہ مخلوق پرستی کے بجائے خالق پرستی ، انسانوں کے درمیان اونچ نیچ کے بجائے مساوات و برابری ، انفرادی اور قومی غلامی کے بجائے آزادی ، مادیت کی جگہ روحانیت اور بے حیائی کی جگہ شرم و حیا اور پاکیزگی اخلاق کا نہ صرف آپ نے درس دیا ؛ بلکہ دنیا میں ان ہی اقدار پر مبنی عظیم الشان انقلاب آپ کے ذریعہ وجود میں آیا ، مگر افسوس کہ بعض لوگ آپ کی ذات اقدس کے بارے میں ہتک آمیز کارٹون اور غلط بیانی سے کام لے کر ناواقف برادرانِ انسانیت کو غلط فہمی میں مبتلا کرتے ہیں اور مذہبی رواداری کے بجائے مذہبی دل آزاری کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں ملک کے ایک اہم تعلیمی ، تحقیقی اور تربیتی ادارہ ’’ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد‘‘ میں پیغمبر اسلام کی سیرت طیبہ کیموضوع پر21۔22۔23? فروری 2016ء کو سہ روزہ سیمینار منعقد ہوا ، جس میں ہندوستان کے تمام علاقوں اور حلقوں نیز بیرون ملک سے بھی مختلف علماء شریک ہوئے اور بحیثیت مجموعی40 سے زیادہ مقالات پیش کئے گئے ، ان میں مغربی مصنفین کی طرف سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں پر بحث کی گئی ، دلائل اور حوالوں کے ساتھ اس بات کو پیش کیا گیا کہ دیگر مذہبی مقدس کتابوں میں بھی آپ ﷺکی آمد کی پیشین گوئیوں کے اشارے موجود ہیں ، مغرب کے یا ہندوستان کے دانشوروں ، مذہبی لیڈران اور غیر مسلم شعراء اور ادباء نے آپ ﷺ کی شان میں تعریف و توصیف کی جو باتیں کہی ہیں ، ان پر روشنی ڈالی گئی اور موجودہ دور میں پیدا ہونے والے مسائل ۔۔۔تکثیری سماج ، ماحولیات کا تحفظ ، موجودہ جمہوری نظام ، بنیادی انسانی حقوق وغیرہ ۔۔۔ سے متعلق پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات پیش کی گئیں ، خاص کر اس بات پر زور دیا گیا کہ آپ ﷺ نے ذات پات کی تقسیم کو غلط ٹھہراتے ہوئے انسانی وحدت کی تعلیم دی ہے ، دوسرے مذاہب کے پیشواوں کے احترام کا حکم دیا ہے ، تمام انسانیت کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتے ہوئے انھیں رشتہ اْخوت سے جوڑا ہے اور خاص کر ایک تکثیری اور ہمہ مذہبی سماج میں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام و رواداری اور باہمی تعاون کے ذریعہ امن و آشتی کو قائم رکھنے کی ہدایت دی ہے۔سیمینار میں ملک وبیرون ملک کے تقریباً تین سو اسکالرس نے شرکت کی اور بہ اتفاق رائے جو تجاویز منظور کی گئیں ، وہ حسبِ ذیل ہیں :
1) دنیائے انسانی سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ غیر معتبر پروپیگنڈوں اور معاندانہ ، بے بنیاد تبصروں سے متاثر نہ ہوں ؛ بلکہ پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت کو مستندو معتبر کتابوں کے ذریعہ پڑھیں اور آپ ﷺ کی انقلاب انگیز تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، اس طرح وہ محسوس کرلیں گے کہ ٓپ امن اور مساوات کے داعی تھے اور آپ ﷺکا اْسوہ ہمارے لئے موجودہ حالات میں بہترین رہنما ہے۔
2) مسلمانانِ ہند سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اخلاق نبوی کا آئینہ بنائیں اور اسلام نے سماج کے تمام طبقات کے ساتھ جس حسنِ سلوک اور انسانی بنیادوں پر برادرانہ برتاو کی تعلیم دی ہے ، اس کا نمونہ بنیں۔
3) ہندوستان کی تمام قومی اور ریاستی زبانوں میں پیغمبر اسلام ﷺکی سیرت پر معتبر لٹریچر شائع کیا جائے اور اسے برادرانِ وطن تک پہنچایا جائے ؛ تاکہ آپ کی تعلیمات سے پوری انسانیت فائدہ اْٹھائے۔
4) یہ بات بے حد افسوس ناک ہے کہ گنگا جمنی تہذیب کے مقابلہ ہمارے ملک میں تاریخ پر ایسی کتابیں لکھی جارہی ہیں ، جن کا مواد تعصب و تنگ نظری اور افترا پردازی پر مبنی ہے ، اور بعض اوقات نصاب تعلیم میں بھی پیغمبر اسلام ، صحابہ ، مسلم سلاطین اور بزرگوں کے بارے میں بالکل بے بنیاد باتیں شامل کردی گئیں ہیں جن کا مقصد مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنا اور سماج میں بسنے والی مختلف قوموں کے درمیان نفرت کی دیوار اْٹھانا ہے ؛ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ جن مضامین سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات وابستہ ہیں ، ان کے بارے میں وہی بات لکھی جائے ، جس کو اس مذہب کے معتبر شارحین تسلیم کرتے ہوں۔
5) مختلف مذاہب کی مقدس شخصیات کے احترام کو ملحوظ رکھا جائے اور حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ ایسے مو ثر قوانین بنائے ، جو مذہبی دل آزاری کا ارتکاب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے ، خواہ ایسی دل آزاری نصابی کتابوں کے ذریعہ ہو یا الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا کی نصابی کتابوں کے ذریعہ ، کارٹون کی شکل میں ، یا مضمون کی شکل میں ، اس کو ہرگز اظہار رائے کی آزادی کا نام نہیں دیا جاسکتا ، یہ حق اظہار کی آزادی نہیں ہے ؛ بلکہ مجرمانہ حرکت اور دل آزاری ہے۔
6) یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایسا قانون بنائے ، جو تمام مذاہب کے احترام کو یقینی بنائے ، افسوس کہ کسی گروہ کے مذہبی جذبات مجروح کئے جاتے ہیں ، اس کی مذمت نہیں کی جاتی ، اور جب اس پر جوابی ردعمل سامنے آتا ہے تو اس کی مذمت کی جاتی ہے ، اس کی وجہ سے دنیا میں تشدد اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے ، تشدد کا حل طاقت کااستعمال نہیں ہے ؛ بلکہ نا انصافی ، زیادتی ، دل آزاری ، ظلم کو روکنا اور تمام مذہبی لسانی اور نسلی گروہوں کے ساتھ مساویانہ برتاوکو یقینی بنانا ہے۔
7) شریعت اسلامی کسی بے قصور مسلمان یا غیر مسلم کے قتل کی اجازت نہیں دیتی ؛ بلکہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتی ہے ، مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جان و مال اور عزت و آبرو کے یکساں احترام کا حکم دیتی ہے اور نہ اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کوئی گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے اور تشدد و طاقت کا ہتھیار استعمال کیا جائے ؛ اس لئے داعش کے نام سے جس گروہ کا ذرائع ابلاغ میں ذکر آرہا ہے ، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، اس کا طرز عمل پوری طرح غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے اور یہ امریکہ ، اسرائیل اور ان مغربی طاقتوں کی پیداوار ہے ، جو اپنے مفادات کے لئے ہمیشہ مشرقی ملکوں میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں اور جنھوں نے ہندوستان کے بشمول ایشیاء اور افریقہ کے بہت سے ملکوں کو جبراً اپنا غلام بنائے رکھا تھا اور آج بھی مختلف بہانوں سے ان کی مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
مذہبی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.