the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

اپریل فول اوراسلام

Wed 30 Mar 2016, 17:45:32

غفران ساجدقاسمی
چیف ایڈیٹربصیرت آن لائن
جھوٹ،فریب،دغابازی اوردھوکہ دہی کی ممانعت صرف مذہب اسلام میںہی نہیںبلکہ دنیاکے تمام مذاہب میںموجودہے ،اتناہی نہیں دنیاوی قانون بھی ایسے شخص کو مجرم گردانتی ہے جوان افعال قبیحہ کامرتکب پایاجاتاہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کی برائی بیان کرتے ہوئے بہت صاف اورصریح لفظوںمیںفرمایا:’’الصدق ینجی والکذب یہلک‘‘(الحدیث)کہ سچائی انسان کونجات دلاتی ہے اورجھوٹ انسان کوہلاکت میںڈالتاہے ۔ایک دوسری طویل حدیث میںسچ اورجھوٹ کے فرق کواس طرح بیان کیاگیاہے :۔ترجمہ: حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کہ بے شک سچ نیکی کی طرف لے جاتاہے اورنیکی جنت کی طرف لے جاتاہے ،اورجوشخص سچ بولتاہے یہاںتک کہ اللہ کے نزدیک اسے سچالکھ دیاجاتاہے ،اورجھوٹ برائی کی طرف لے جاتاہے اوربرائی جہنم کی طرف لے جاتاہے اورجوشخص جھوٹ بولتارہتاہے یہاںتک کہ اللہ کے نزدیک اسے جھوٹالکھ دیاجاتاہے ۔(بخاری۸؍۳۰)اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی شان بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیںبولتاہے:’’حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیاکہ کیامومن بزدل ہوسکتاہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشادفرمایا:ہاں،پھرپوچھاگیاکہ کیامومن بخیل ہوسکتاہے ؟جواب میںارشادفرمایا : ہاں، آخرمیںپوچھاگیاکہ کیامومن جھوٹاہوسکتاہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ نہیں،مومن جھوٹ نہیںبول سکتا۔(رواہ امام مالک فی المؤطا)
ہرسال پہلی اپریل کوپوری دنیامیں’’اپریل فول‘‘کے نام سے منایاجاتاہے ،اوراس میںجانے انجانے میںہم مسلمان بھی برابرکے شریک رہتے ہیں،اپریل فول کا مطلب جھوٹ اوردھوکہ کے ذریعہ ایک دوسرے کوبیوقوف بنانااورجب وہ بے وقوف بن کرشرمندہ ہوجائے تواپنی اس نام نہاداورجھوٹی کامیابی پرخوش ہونا،اسی کواپریل فول کہتے ہیں۔اپریل فول نام ہی ہے جھوٹ،فریب،مکراوردھوکہ بازی کاجس کی نہ تودنیاکاکوئی مذہب اجازت دیتاہے اورنہ ہی دنیاوی قانون،لیکن اس کے باوجودآج کی یہ مہذب دنیا اس قبیح فعل اورجھوٹ ودغابازی کے اس مکروہ عمل کوانجام دے کرخوش ہوتی ہے اورجوجتنے زیادہ لوگوںکواس جھوٹ اورفریب کے ذریعہ بے وقوف بناتے ہیںوہ اتنازیادہ فخرمحسوس کرتے ہیں،پہلے پیراگراف میںاحادیث کے ذکرکرنے کامنشاومقصودہی یہی تھاکہ جس جھوٹ اورفریب کے گھناؤنے کھیل کاہم تذکرہ کرنے جارہے ہیںپہلے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںاس کی قباحت کواچھی طرح سے اجاگرکردیاجائے ۔مذکورہ حدیثوںمیںآپ یہ دیکھ رہے ہیںکہ کس طرح اسلام نے جھوٹ اورجھوٹ بولنے والوںکے لیے کتنی سخت وعیدیںبیان کی ہیںاتناہی نہیںبلکہ یہاںتک کہاگیاکہ مومن جھوٹ نہیںبول سکتا،اس کامطلب یہی ہواکہ جوجھوٹ بول رہا اورجھوٹ کے اس عمل میںشریک ہورہاہے خواہ وہ اسے ایک معمول کی ہنسی مذاق ہی سمجھ کرسہی وہ مذکورہ بالاحدیث کی روشنی میںمومن نہیںہوسکتا،کیوںکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیںبولتا۔
    اپریل فول کیاہے ؟ اوراس کاتاریخی پس منظرکیاہے ؟ اس سلسلہ میںتاریخ سے کوئی واضح ثبوت نہیںملتاہے ،کچھ مؤرخین نے کسی واقعہ کواس کی ابتداء بتایاہے توکسی نے کسی دوسرے واقعہ کو،بہرحال اس سلسلہ میںہمیںچار مشہورواقعات تاریخ کے صفحات میںدرج نظرآتے ہیںجن کی جانب جھوٹ کے اس عمل کی ابتداء کومنسوب کیا جاتا ہے ۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ان واقعات کواختصارکے ساتھ ذیل میںپیش کیاجاتا ہے :
    (۱)اس سلسلہ میںجوسب سے مشہورواقعہ ہے ،اورعام طورپرزیادہ ترمؤرخین اسی واقعہ کواس کاپس منظرقراردیتے ہیں،اورحقیقت واقعہ بھی یہی ہے کہ جس طرح اہل مغرب یہودونصاریٰ اسلام دشمنی میںپیش پیش رہتے ہیں،اس سے کچھ بعیدنہیںکہ انہوںنے اس دن کوواقعتااسی لیے یادگاربنالیاہوکہ اس دن مسلمانوںکے ساتھ انہوںنے دھوکہ اورفریب کے ساتھ نہتے اورمظلوم مسلمانوںکوموت کے گھاٹ اتاردیااوراپنی مسلم اوراسلام دشمنی کی وجہ سے اس دن کواپنی فتح کے طورپرمنانے لگے اورہم مسلمان بھی مغرب کی اندھی تقلیدمیںبغیرسوچے سمجھے اس دن کوہنسی مذاق کادن بنالیا۔واقعہ یہ ہے کہ اسپین پرمسلمانوںنے آٹھ سوسال تک بڑی شان وشوکت کے ساتھ حکمرانی کی،وہاںکی عالیشان مسجدیںاورسربہ فلک محل آج بھی اس شانداردورحکومت کی کہانی سناتے نظرآتے ہیں،مسلمانوںکی باہمی چپقلش اورمسلم حکمرانوںکی عیش کوشی نے عیسائیوںکودوبارہ اقتدار میں آنے کاموقعہ فراہم کیا۔
    اسپین کی تمام ریاستیںایک ایک کرکے مسلمانوںکے ہاتھوںسے نکلتی چلی گئیں،مسلمان پسپا ہوتے ہوتے غرناطہ میںجمع ہوگئے تھے ،حالات ایسے پیداہوتے چلے گئے کہ آخری مسلم حکمراںابوعبداللہ نے الحمراء کی چابیاںکلیساکے حوالے کردیں،کلیسانے ابوعبداللہ سے ایک معاہدہ کیاتھاجس کی ایک شق یہ بھی تھی کہ جومسلمان غرناطہ میںباقی رہ گئے ہیںان کی جان،مال اورعزت وآبروکی حفاظت کی جائے گی لیکن اس معاہدے پرعمل نہیںکیاگیا۔اس کے برعکس مسلمانوںکوظلم وتشددکانشانہ بنایاگیا،انہیںعیسائی مذہب اختیارکرنے پرمجبورکیاگیا،جن لوگوںنے یہ حکم ماننے سے انکارکیاان کوباغی قراردے کرسزائیںدی گئیں،بے شمارمسلمانوںکوزندہ جلادیاگیا،کچھ لوگ جان بچاکربھاگ گئے اور پہاڑوںاورغاروںمیںجاچھپے ،ایسے ہی لوگوںکوعیسائیوںنے یہ پیش کش کی کہ ان کوبہ حفاظت مراکش پہونچادیاجائے گا،مسلمان ان کے جھانسے میںآگئے ،ان کے سامنے اس کے علاوہ کوئی دوسراراستہ بھی نہیںتھا،ایک نئی زندگی پانے کی آرزومیںبچے کھچے اورلٹے پٹے مسلمان عیسائیوںکے فراہم کردہ جہازمیںسوارہوگئے ،جب یہ جہازبحیرۂ روم میںپ ہونچاتواسے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت سمندرمیںغرق کردیاگیا،یہ الم ناک اورانسانیت سوزواقعہ یکم اپریل۱۴۹۸ء کوپیش آیاتھا،مغربی اقوام یہ دن اسی لیے مناتی ہیں تاکہ مسلمانوںکوبے وقوف بناکرانہیںغرق آب کرنے کے یہ لمحات یادگاربنائے جاسکیں،اگراس پہلوسے دیکھاجائے تواس دن کی کسی سرگرمی میںحصہ لیناانتہائی بے غیرتی کی بات ہے ۔
    (۲)ایک دوسراواقعہ جس کوانیسویںصدی عیسوی کی مشہورانسائکلوپیڈیا’’لاردس‘‘نے بیان کیاہے ،اگروہ صحیح ہے توپھرحیرت ہے یورپ اورعیسائی دنیاپراوران کی عقلوںپہ ماتم کرنے کوجی چاہتاہے کہ وہ خودہی اپنے پیغمبرکامذاق اڑارہے ہیں’’لاردس‘‘نے یہودیوںاورعیسائیوںکے مستندحوالوںکی بنیادپرلکھاہے کہ یکم اپریل وہ تاریخ ہے جس میںرومیوںاوریہودیوںنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامذاق اڑایاتھااورانہیںتکلیف پہونچائی تھی،لوقاکی انجیل میںیہ روایت بیان کی گئی ہے کہ جن لوگوںنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوگرفتارکیاوہ ان کامذاق اڑاتے ،ان کی آنکھیںبندکرکے طمانچے مارتے اورکہتے کہ اب اپنی ’’نبوت کے ذریعہ بتلاکہ تجھے کس نے ماراہے ‘‘،گرفتاری کے بعد انہیں یہودی علماء  کے سامنے پیش کیاگیا،وہاںسے دوسری عدالتوںمیںبھیجاگیا’’لاردس‘‘کاکہناہے کہ مختلف عدالتوں میں بھیجنے کامقصدانہیںتکلیف پہونچانااو ران کامذاق اڑانا تھا، کیوںکہ یہ واقعہ یکم اپریل کوپیش آیاتھااس لیے یہودیوںنے اس دن کویادگاردن کے طورپرمنانے کافیصلہ کیا۔(ذکروفکرمفتی تقی عثمانی:ص:۷۶،۸۶)
    (۳)’’انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا‘‘میںایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ فرانس میںسال نوکاآغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہواکرتاتھااوررومیوںکے نزدیک یہ مہینہ مقدس تصورکیاجاتاتھاکیوںکہ اس کی نسبت ان کی مشہوردیوی وینس کی طرف تھی،یکم اپریل سال نوکے آغازکادن بھی تھااوردیوی کی نسبت سے اس مہینے کوتقدس بھی حاصل تھااس لیے لوگ اس دن کویادگاردن سمجھنے لگے اورجب سال میںیہ دن آتا توخوشی اورمسرت سے جھومتے گاتے ،ہنسی مذاق کرتے ،آہستہ آہستہ ہنسی مذاق اس دن کالازمی عمل بن گیا، اگربات بے ضررہنسی تک رہتی تب بھی غنیمت تھا،لوگوںنے یہاںتک کیاکہ ہنسی مذاق کے نام پرجھوٹ بولنااوردھوکادیناشروع کردیا،جب کوئی شخص جھوٹ پریقین کرلیتا،یاکسی فریب کا شکارہوجاتاتواس کامذاق اڑایاجاتا،آہستہ آہستہ معاشرے میںمذاق کی یہ بدنمااورتکلیف دہ شکل اتنی عام ہوئی کہ لوگ یکم اپریل کوعام معافی کادن سمجھ کرکمینگی کی تمام حدود کو پار کرنے لگے ۔
    (۴)مذکورہ انسائیکلوپیڈیاآف برٹانیکامیںہی ایک وجہ اوربیان کی گئی ہے کہ مارچ کی آخری تاریخوںسے موسم میںتغیرشروع ہوجاتاہے ،بعض افراداس موسمی تغیر کو قدرت کامذاق قراردیتے ہیں،گویاقدرت موسم کی اس غیریقینی صورت حال کے ذریعہ ہمیںبے وقوف بنارہی ہے ،لہٰذاکیوںنہ ہم ایک دوسرے کوبے وقوف بناکرقدرت کے اس مذاق کاجواب دیں،اگریہ وجہ ہے توانتہائی مہمل اوربے ہودہ ہے ،اول تویہ سوچناہی لغوہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوںسے اس طرح کامذاق کرے گا،پھراگرکوئی اپنی ناقص عقل کی بنیادپرموسم کے تغیرات کوقدرت کامذاق قراردینے کی حماقت بھی کرتاہے توآپس میںانسانوںکاایک دوسرے کوبے وقوف بنانے کے فعل سے اس کاکیاتعلق؟؟؟
    وجہ خواہ جوبھی ہو،چوںکہ اپریل فول جھوٹ اورفریب پرمبنی ہے ،اس لیے ہرحال میںحرام ہے ،کیوںکہ اس قبیح رسم میںبیک وقت کئی برائیاںموجودہیں:اول تو جھوٹ،دوسرے ایذاء مسلم اورتیسرے ایک انسان کاتمسخراورمذاق اوریہ تینوںبرائیاںاسلام میںحرام ہے ،جھوٹ کے بارے میںحدیث شروع میںگذرچکی ہے ۔
    ’’اپریل فول‘‘کوعام لوگ ایک بے ضرراورسادہ مذاق تصورکرتے ہیںلیکن درحقیقت اس میںکئی گناہ موجودہیںجن میںسے ایک گناہ مسلمانوںکوتکلیف پہونچانابھی ہے :اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشادہے :’’اورجولوگ ایمان والے مردوںاورایمان والی عورتوںکوبغیرکسی جرم کے ایذاء پہونچاتے ہیںوہ لوگ بہتان اورصریح گناہ کابوجھ اٹھاتے ہیں‘‘۔(الاحزاب:۸۵)
    ’’اپریل فول‘‘میںدوسروںکی ہنسی اڑاناہوتاہے جب کوئی شخص کسی کوجھوٹ بول کرکچھ بتاتاہے اوروہ اس جھوٹ کوسچ سمجھ بیٹھتاہے تب وہ شخص اس پرہنستاہے اوراس کا مذاق اڑاتاہے ،ایسے لوگوںکے بارے میںاللہ تعالیٰ کاارشادہے :’’اے ایمان والو!نہ مردوں کو مردوں پرہنسنا چاہیے ، ہوسکتاہے کہ جن پرہنستے ہیںوہ ہنسنے والوںسے بہتر ہوں اور نہ عورتوںکوعورتوںپرہنسناچاہیے ہوسکتاہے جن پروہ ہنستی ہیںہنسنے والیوںسے بہترہوں‘‘۔(الحجرات:۱۱)
    بہرحال:’’اپریل فول‘‘کے سلسلہ میںاسلام کا نظریہ بالکل صاف ہے ،اوراس میںکسی طرح کے جوازکی کوئی گنجائش ہی نہیںہے ،حضرت مولانامفتی عبدالرحیم لاجپوریؒ نے ایک استفتاء کے جواب میںلکھاکہ’’اپریل فول منانایہ نصاریٰ کی سنت ہے ،اسلامی طریقہ نہیںہے ،جھوٹ بولناحرام ہے ،حدیث شریف میںہے :’’اس آدمی کے لیے ہلاکت ہے جولوگوںکوہنسانے کے لیے جھوٹ بولتاہے ‘‘۔ (ابوداؤد:۲؍۶۱۷)ایک دوسری حدیث میںہے کہ :’’کوئی بندہ پورے ایمان کاحامل نہیںہوگاجب تک وہ جھوٹ کوترک نہ کردے ،جھوٹ خواہ ہنسی مذاق میںہوخواہ لڑائی جھگڑے میں‘‘۔(مسنداحمد:۲؍۲۵۳)
    جھوٹ بولنابڑی خیانت ہے ،کیوںکہ انسان اللہ اورلوگوںکاامین ہے اس کوسچ ہی بولناچاہیے ،جھوٹ بولناامانت کے منافی ہے ۔حدیث شریف میںہے :’’یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات اس طرح کہوکہ وہ تم کوسچاجان رہاہوحالاںکہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔(ابوداؤد:حدیث نمبر:۱۷۹۴)
    مذکورہ آیات،احادیث اورتاریخی حوالوںکی روشنی سے ایک بات بالکل آئینہ کی طرح صاف ہے کہ اپریل فول کی بنیادجھوٹ اورفریب پرہے ،اوراسلام جھوٹ اور فریب سے منع کرتاہے ، لہٰذامسلمانوںکوچاہیے کہ وہ اس بے ہودہ،مخرب اخلاق اورتکلیف پہونچانے والی بری رسم سے پرہیزکریں،دوسرے مسلمان بھائیوںکوبھی اس سے بچنے کی تلقین کریں اوراسلام ہم سے یہی چاہتاہے اورعقل انسانی کاتقاضابھی یہی ہے ۔٭٭٭

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
مذہبی میں زیادہ دیکھے گئے
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.