the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

حیدرآباد، 26؍ فروری (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی جانب سے حالی صدی تقاریب کے سلسلے میں کل اردو کے معروف محقق ، نقاد ، شاعر ڈاکٹر سید تقی عابدی (کینڈا ) نے ’’ عہدِ حاضر میں مسدسِ حالی کے مطالعہ کی معنویت ‘‘کے عنوان سے ایک بصیرت افروز توسیعی خطبہ پیش کیا ۔انہوں نے اپنے خطبہ میں مسدسِ حالی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اُسے امتِ اسلامیہ کے زوال کا مرثیہ قرار دیا ۔جس کی معنویت اکیسویں صدی میں بھی نہ صر ف برقرار ہے بلکہ بڑھ گئی ہے کیونکہ دورِ حاضر میں مسلمانوں کے حالات اور زیادہ دگرگوں ہوگئے ہیں ۔سماجی و سیاسی اور معاشرتی زوال اور تہذیبی انحطاط کے سبب مسلم معاشرہ پہلے سے زیادہ زبوں حال ہوگیا ہے ۔ سرسید کی ایماء پر حالی نے ’ مسدس مد و جزرِ اسلام ‘ لکھا جس میں اسلام سے قبل عر ب کے دورِ جاہلیت سے ہوتے آغاز کرتے اسلام کی آمد مسلمانوں کے عروج اور اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب زوال کی داستان نہایت درد مندی سے بیان کی گئی ہے۔ وہ اسلاف کے کارناموں کو یاد دلاکر مسلمانوں کو علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے پر آمادہ کرنے کے متمنی تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے حسن اخلاق اورعمل کے ذریعے ملت کی تشکیل نو کریں۔ حالی مسلمانوں کو تنزل سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے۔ وہ مسدس میں بیان کرتے ہیں کہ شمعِ اسلام سے مغرب نے روشنی حاصل کی، مسلمان سائنس دانوں، اطبا اور فلسفیوں سے استفادہ کیا اور عملی میدان میں ترقی کرتا گیا لیکن مسلمانوں کے حالات چراغ تلے اندھیرا کے مصداق رہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مسدس عظمتِ انسان کا احساس دلاتا ہے اور احترام آدمیت سکھاتاہے دلوں کو جوڑنے کی بات کرتاہے۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے یہ بھی کہاکہ حالی نے پہلے مسدس کا اختتام مایوسی پر کیا تھا لیکن بعد میں احباب کے کہنے پر اس میں ایک ضمیمہ جوڑ دیا جس میں رجائیت ہے۔حالی کے تنقیدی نظریات پر گفتگو کرتے ہوئے مہمان مقرر نے کہا کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں کی طرح ادب میں بھی حقیقت پسندی کو شامل کرکے وقت کے تقاضوں کے مطابق بنانا چاہتے تھے۔ حالی ادب کی افادیت پر زور دیتے تھے جس کے ذریعے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ حالی پرپے در پے حملے ہوتے رہے لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ انھوں نے پانی پت کی چوتھی جنگ جیت لی۔صدرِاجلاس پروفیسر نسیم الدین فریس ، ڈین اسکول برائے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات‘ نے اپنے صدارتی خطبہ میں سید تقی عابدی صاحب کی تحقیقی و تنقیدی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ تقی عابدی صاحب کا شمار آج اردو کے صف اول کے محققین میں ہوتا ہے۔ حالی کی شخصیت ، علمیت، اخلاص اور قوم کے لیے دردمندی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسدسِ حالی کے موضوعات خارجی ہیں لیکن یہ حالی کا فنی کارنامہ ہے کہ انھوں نے ان موضوعات کو اپنے جذبات کی داخلی آگ میں تپا کر کندن بنادیا اور ان میں شعریت اور لطافت پیدا کی۔مسدس کو اپنے زمانے میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی میلاد اور دیگر محفلوں میں اسے پڑھا جاتا تھا اور اس کی تاثیر سے لوگوں پر رقت طاری ہو جاتی تھی۔سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہر اردو جاننے والے کو مسدسِ حالی کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئیے۔انھوں نے کہاکہ مسدس میں حالی یہ بتاتے ہیں کہ اسلام کی آمد کے بعد مسلمانوں میں ذہنی وسعت پیدا ہوئی مختلف علوم جیسے طب، نجوم، سائنس، فلسفہ وغیرہ میں انقلابی ترقی کی لیکن جب مسلمان اسلامی تعلیمات سے دور ہوئے تو یہ ترقی تنزل میں بدل گئی۔ مسلمانانِ ہندحالی کا محور و مرکز اور قرآن و حدیث ان کی فکر کامنبع و سر چشمہ ہیں۔صدرِ شعبہ پروفیسر ابوالکلام نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی اس یونیورسٹی کو اس قدر عزیز رکھتے ہیں کہ اپنے مصروف ترین شیڈول کے باوجود یہاں کے طلبہ کو اپنے تبحرِ علمی سے فیضیاب کرتے ہیں۔ان کی تنقیدی بصیرت، تحقیقی کاشوں اور اردو کی نئی بستیوں میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا۔اجلاس کی افتتاح قرات کلام پاک سے ہوئی جسے پیش کرنے کی سعادت محمد مہتاب عالم (ایم فل ) نے حاصل کی۔ اجلاس کی کاروائی ڈاکٹر شمس الہدیٰ دریابادی نے چلائی اور ڈاکٹر مسرت جہاں نے اظہار تشکر پیش کیا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا ایشیا کپ 2018 ٹرافی

انڈیا
پاکستان
بنگلہ دیش
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.