the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

حیدرآباد ۔۷؍جولائی( پریس نوٹ) رمضان مبارک نزول قرآن مجید، فریضہ صوم، عبادت شبانہ، اعمال صالحہ، انفاق اور خدمت خلق سے معنون ہے ۔نماز پنجگانہ اور روزوں کے ساتھ امت کے متمول، صاحبان ثروت مالکین نصاب بالعموم فریضہ زکوٰۃ بھی رمضان شریف میں ادا کرنے کا اہتمام کیا کرتے ہیں اس طرح تین فرض عبادتوں کی یکجائی اس مقدس مہینے کے خصائص سے ہے۔ احکام و فرائض ہر دو کی ترتیب میں نمازکے بعد زکوٰۃ کا درجہ ہے۔ مال سے تعلق کی بنیاد پر اسے مالی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ نماز خالق کائنات کی عبادت عظمیٰ ہے اور زکوٰۃ فریضہ دین اور عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کی مالی اعانت کاذریعہ ہے اس کے ذریعہ بندہ بندوں کے کام آتا ہے ضرورت مندوں کی مالی مدد و راحت رسانی اور ملی کاموں کے لئے سرمائے کی فراہمی کے اس ذریعہ سے دین اسلام نے حقوق عباد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے رمضان مبارک کے روح پرور اور نورانی ماحول میں ۱۸؍ رمضان المبارک کو بعد نماز ظہر مسجدمعراج بورہ بندہ اور بعد نمازعصر حمیدیہ شرفی چمن میں روزہ دار مصلیوں کے نمائندہ اجتماعات سے خطاب کی سعادت حاصل کرتے ہوے ان حقائق کا اظہار کیا۔ وہ اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے’’حضرت تاج العرفاءؒ یادگار خطابات‘‘ کے انیسویں سال کے ۱۸ویں روز منعقدہ اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے جو قراء ت کلام پاک سے شروع ہوے۔ بارگاہ شہنشاہ کونینؐمیں ہدیہ نعت پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوے کہا کہ جن کو زکوٰۃ دی جاتی ہے انہیں مال زکوٰۃ کا پوری طرح مالک کر دینا چاہئیے یعنی زکوٰۃ دینے والے کی منفعت مال زکوٰۃ سے منقطع ہو جائے ۔ چوں کہ اس فعل(زکوٰۃ) سے باقی مال پاک ہو جاتا ہے اور اس میں حق تعالیٰ کی طرف سے برکت عنایت ہوتی ہے اور آخرت میں اللہ پاک اس کا دس گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اس لئے اس کا نام زکوٰۃ رکھا گیا ۔نماز، زکوٰۃ اور روزہ امم سابقہ پر بھی لازم تھے۔ انھوں نے مختلف احادیث کی روشنی میں کہا کہ زکوٰۃ اسلام کا پل ہے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دیں تو مال تلف ہونے سے بچ جاتا ہے۔جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی اللہ تعالیٰ نے اس سے شر کو دور فرما دیا۔خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ مستحقین اور حاجت مند بندگان خدا کی مالی خدمت، بھوکوں کو کھانا کھلانا، فقراء اور مساکین کی اعانت، مہمان نوازی، صلہ رحمی، مسافروں سے سلوک، بیماروں کی عیادت اور دیکھ بھال، عیال داری ، محتاجوں کی مدد، ضرورت مندوں کی حاجت براری، حوادث کے وقت ممکنہ امداد اور متاثرین کے لئے راحت رسانی کا سامان کرنا، یتیموں، بیواؤں ، بے سہارا لوگوں اور بیکسوں کی کفالت ونگہداشت، تمام ملی فلاح کے کاموں میں مالی معاونت، تعلیمی ترقی کی سعی و عملی جد و جہد اس میں دینی علوم حاصل کرنے والے طلبہ اور فروغ علم میں مشغول تدریس و تعلیم سے وابستہ علماء اور معلمین کے ساتھ علوم جدیدہ حکمت و سائنس اور طب و سماجیات سے متعلق تمام شعبوں سے منسلک افراد ملت کے لئے شرعی اصولوں کے تحت تعاون اور قرضداروں کو قرض کے بوجھ اور گرفت سے چھٹکارا دلانا جیسے تمام امور فریضہ زکوٰۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ بحسن و خوبی انجام پا سکتے ہیں۔اجلاسوں کے آخر میں بارگاہ رسالت مآب ؐ میں سلام گزرانا گیا اور رقت انگیز دعا ئیں کی گئیں۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا ایشیا کپ 2018 ٹرافی

انڈیا
پاکستان
بنگلہ دیش
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.