the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

گوشت لحم (Meat)

Tue 27 Oct 2015, 18:10:50



سورہ طور میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ اور ہرطرح کے پھل پھول اور ہرقسم کے گوشت سے جو بھی وہ چاہتے ہیں ہم نے ان کو وافر مقدار میں دے رکھا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غذا میں گوشت کی شمولیت کو نہ صرف یہ کہ پسند فرمایا بلکہ اسے کھانوں کاسردار قراردیا ہے ۔ 
سنن ابن ماجہ میں حضرت ابولدرداءؓ سے مروی یہ حدیث منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ دنیاوالوں اور جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے ۔
اسی طرح حضرت بریدہؓ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایاکہ دنیا اور آخرت کا بہترین سالن گوشت ہے ۔
سنن ابن ماجہ میں حضرت ابولدرداءؓ سے ایک اور روایت یوں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی گوشت کھانے کی دعوت دی گئی آپ ؐ نے قبول فرمائی ۔جس کسی نے بھی آپ ؐ کو گوشت کا حصہ بھیجا ‘ آپ ؐ نے قبول فرمایا ۔
گوشت میں چونکہ پروٹین اور بہت سے دیگر تغذیائی اجزاء پائے جاتے ہیں اسی لئے وہ لذید بھی ہوتا ہے ۔ اس میں پروٹین کے علاوہ اس میں لوہا ‘ جست‘ میگنیشم ‘ حیاتین ’ای‘ اور ’بی ‘ قسم کے حیاتین میں تھایامن‘ نیاسن‘ حیاتین B5 اور B12 وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔تا ہم طبی تحقیقات کی بنیاد پر یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ خاص طورپر سرخ قسم کے گوشت میں معمول سے زیادہ مقدار میں سیرشدہ چکنائی (Saturated Fats) اور کولیسٹرال پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے سرخ گوشت کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے ہی میں دانشمندی ہے ۔ 
گوشت کھانے کے بہت سے فوائد ہیں۔ اس لئے کہ اس ایک غذائی شئے کے استعمال سے جسم کو بہت سے تغذیائی اجزاء فراہم ہوجاتے ہیں جب کہ سبزیوں پر مشتمل غذا میں ایسی کوئی سبزی نہیں ہے جو کہ اتنے سارے تغذیائی عناصر کو ایک ساتھ مہیا کرتی ہو ۔ گوشت عمدہ کوالٹی کے پروٹین کے حصول کا ایک حیران کن ذریعہ ثابت ہوتا ہے ۔ سرخ گوشت میں لوہے کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے ۔ اس کا مقابلہ کوئی بھی سبزیوں پر مشتمل غذا نہیں کرسکتی ۔ مثال کے طورپر 100 گرام کلیجی میں تقریباً 6000 مائیکروگرام لوہا موجود ہوتا ہے جبکہ 100 گرام گاجر میں صرف 325 مائیکرو گرام لوہے کی مقدار پائی جاتی ہے ۔ 
گوشت میں پایا جانے والا فاسفورس (Phosphorus ) بھی عمدہ کوالٹی کا حامل ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے کہ اناجوں اور دالوں میں موجود فاسفورس کے مقابلے میں گوشت میں پایاجانے والا فاسفورس بڑی نفاست سے عمل انہضام سے گزرکر آسانی کے ساتھ جزوبدن بن جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اناجوں اور دالوں وغیرہ میں پایا جانے والا فاسفورس عموماً فائٹک ترشے کی شکل میں موجود ہوتا ہے اور اسے جسم میں جذب ہونے کے لئے پہلے ہائڈرولائسس (Hydrolysis ) کے عمل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ گوشت میں موجود فاسفورس راست عمل ہضم سے گزرکر جسم میں جذب ہوجاتا ہے ۔ 
انسانی جسم کی نشوونما کے لئے ضروری حیاتین B12 کے حصول کے لئے گوشت ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتا ہے ۔
گوشت میں ویسے توبہت سے تغذیائی اجزاء پائے جاتے ہیں تاہم اس میں عمل تحول میں مدد دینے والے بعض اجزاء کی کمی ہوتی ہے ۔ مثال کے طورپر اس میں کسی بھی قسم کا ریشہ (Fibre) نہیں پایا جاتا ۔ واضح رہے کہ غذا میں ریشے کی موجودگی سے ہضم کا عمل مناسب طریقے پر انجام پاتا ہے ۔ اس سے ہٹ کر دیکھا جائے تو گوشت میں سیرشدہ چکنائیوں کی مقدار دوسری غذائی اشیاء کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے ماہرین صحت یہ کہتے ہیں کہ گوشت اور خاص طورپر سرخ گوشت کو محدودمقدار میں ہی کھانا چاہئے ۔ اس میں افراط وتفریط سے مختلف تکلیف دہ بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ۔ اسی طرح محفوظ کیا ہوا یعنی ڈبہ بند (Preserved ) گوشت کا استعمال بھی صحت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے اس لئے اس کے استعمال سے بچنا چاہئے ۔ محفوظ کئے ہوئے ڈبہ بند گوشت میں چکنائیاں ‘ نمک اور نائٹرائٹس اور نائٹریٹس کی مقدار نارمل سے بہت زیادہ ہوسکتی ہے اور یہ سب اجزاء جب نارمل سے زائد مقدار میں کسی غذائی شئے میں یکجا ہوجاتے ہیں تو اس غذائی شئے کو کھانے سے اکثر کینسر کا مرض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ 
ماہرین صحت نے حساب لگایا کہ جہاں گوشت کا باقاعدہ استعمال صحت کے لئے فوائد مہیا کرتا ہے وہیں اس کے زیادہ استعمال سے بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ۔ اس لئے ایک اوسط جسمانی وزن رکھنے والے شخص کو روزانہ 60 تا 75 گرام گوشت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ 
*




اسی طرح اسے روزانہ کھانے کی بجائے ہفتہ میں تین بار کھانا زیادہ مناسب ہوا کرتا ہے ۔ 
حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ ا یک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت آیا۔ وہ دستی کا تھا۔ کیوں کہ وہ آپؐ کو پسند تھا آپؐ اس میں سے دانتوں سے کتر کر تناول فرمارہے تھے۔ (ابن ماجہ ‘ ترمذی)
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ حضرت ابن زبیرؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور لوگ آپ کے لئے گوشت نکال رہے تھے کہ آپؐ فرمارہے تھے کہ بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے ۔ 
آپؐ بھنے ہوئے گوشت کو بھی پسند فرماتے تھے ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مہمان تھا ۔ آپؐ نے میرے لئے بکری کے ایک پہلو کو خاص طور پر بھنوایا۔ پھر چھری لے کر اس میں سے کاٹ کاٹ کر مجھ کو عطا کرتے جاتے تھے ۔ 
حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ بیان فرماتے ہیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ 
تحقیق سے ثابت ہے کہ مرغ اور مچھلی کا گوشت اپنے اندر زیادہ چکنائی نہ رکھنے کے سبب کھانے کے لئے نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے ۔ جب کہ گائے ‘ بھینس اور بکرے وغیرہ کا گوشت چکنائیوں سے معمور ہونے کی وجہ سے زیادہ مقدار میں کھانے کے بعد صحت کے لئے نقصان کا سبب بن سکتا ہے ۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ مزے کی خاطر اگر چکنائی کھائی جاتی ہے تو کھائی گئی مقدار کے لحاظ سے جسمانی سرگرمیاں بھی ہونی چا ہئے تا کہ یہ ساری چکنائی ہضم ہوکر استعمال ہوجائے اور کھانے والے کیلئے نقصان کا سبب نہیں بلکہ فائدہ پہنچانے کا سبب بن جائے ۔ ماہرین ان بڑے جانوروں کے گوشت کو چکنائی سے پاک کرکے کھانے کی صلاح دیتے ہیں۔ایسے گوشت کو طبی اصطلاح میں سرخ گوشت (red meat) کہا جاتا ہے ۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ سرخ گوشت صرف نقصان ہی کرتا ہے بلکہ اس میں عمدہ کوالٹی کا پروٹین پایا جاتا ہے ۔ اس کے اندر تغذیائی اجزاء بھرے ہوتے ہیں جیسے لوہا ‘ جست اور دیگر معدنیات وافر پائے جاتے ہیں۔ لہذا اس کو محدود مقدار میں کھانا فائدہ مند ہوتا ہے ۔ چکنائی ہٹاکر سرخ گوشت کھانے سے کافی مقدار میں لوہا اور جست کے علاوہ حیاتین B12‘ نیاسن وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ 
طبی شعبوں میں تحقیقات نے واضح کردیا ہے کہ مچھلی کے علاوہ مرغ اور دوسرے پرندوں کا گوشت صحت بخش ہوتا ہے ۔ جہاں تک مرغ کا تعلق ہے اس کی جلد میں بہت زیادہ چکنائی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مزے دار بھی ہوتی ہے لیکن اتنی زیادہ چکنائی چاہے وہ مرغ ہی کی کیوں نہ ہو صحت پر بار بن جاتی ہے ۔ اسی لئے مرغ کی جلد کو ہٹاکر صرف اس کا گوشت استعمال کرنے کی تاکید کی جاتی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیسی مرغ (country chicken) کو استعمال کیا۔ دیسی مرغ کے گوشت میں مزہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ صحت بخش ہوتا ہے ۔ یہ بھی واضح رہے کہ مرغ میں بعض Bقسم کے حیاتین اچھی خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جب کہ یہ سرخ گوشت میں بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتے ۔ تاہم مرغ میں لوہا زیادہ مقدار میں نہیں ہوتا۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ نے حال ہی میں تقریباً پانچ لاکھ معمر امریکیوں پر یہ تحقیق کی کہ اگر دس سال تک کوئی شخص زیادہ مقدار میں سرخ گوشت استعمال کرتا ہے تو اس کے جسم پر کس قسم کے اثرات پڑتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج سے واضح ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ تقریباً آدھا پاو کلو بڑے جانوروں کا گوشت کھانے کا عادی ہوتا ہے تو دس سال کے عرصہ میں اسے دل کی بیماری اور کینسر جیسے مرض ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں ۔ اس ضمن میں ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ تقریباً 20تا 25گرام سرخ گوشت استعمال کرنے کی عادت بنالیتا ہے تو اسے صحت کے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اسے دل کی بیماری یا کینسر وغیرہ ہونے کے کوئی خدشے نہیں ہوتے ۔ 
ایک اور تحقیق 72ہزار سے زائد خواتین پر 18سال تک انجام دی گئی ۔ اس میں یہ پایا گیا کہ جن خواتین نے مغربی طرز کی خوراک کھانے کو اپنی عادت بنالیا تھا ان میں دل کی بیماری ‘ کینسر اور دوسری وجوہات کے سبب فوت ہونے کے امکانات زیادہ تھے ۔ مغربی طرز کی خوراک میں خصوصی طور پر شامل ہوتے ہیں سرخ گوشت اور تیار گوشت (processed meat) کی وافر مقدار ‘ مٹھائیاں ‘ مصفا اناج (چھلکے کے بغیر اناج ) اور فرینچ فرائز (French fries)وغیرہ ۔ 

گوشت ایک مکمل غذا کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس لئے اگر کوئی شخص گوشت بالکل ہی نہیں کھاتا تو اس کے جسم میں پروٹین کی کمی ہونے لگتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ گوشت خور افراد کے مقابلے میں سبزی خور افراد کو اپنے جسم کی پروٹین کی ضروریات کی تکمیل کے لئے مختلف قسم کی دالوں اور دیگرسبزیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے لیکن اس کے لئے سبزی خور افراد کو زیادہ مقدارمیں سبزیاں وغیرہ کھانی پڑتی ہیں تاکہ ان سے جسم کے لئے ضروری مقدار میں پروٹین حاصل ہوجائیں ۔ اس کے نتیجہ میں ان کے پیٹ بڑے ہوجاتے ہیں ۔ جب کہ گوشت میں مرتکز حالت میں تیار پروٹین موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوشت کی تھوڑی مقدار کھانے پر بھی گوشت خور افراد کو مطلوبہ مقدار میں پروٹین مل جاتے ہیں۔ اسی لئے ان کے پیٹ سبزی خور افراد کے پیٹ سے نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں ۔ 
محدثین کرام اور اطباء نے گوشت کی غذائی خوبیوں پر سیر حاصل مشاہدات و تحقیقات انجام دی ہیں ۔ ان تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ گوشت کھانے سے ستر قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس سے بصارت میں بھی بہتری آتی ہے ۔ حضرت علیؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ گوشت کھاؤ اس لئے کہ یہ رنگ کو نکھارتا ہے ‘ پیٹ کو بڑھنے نہیں دیتا‘ اخلاق و عادات کو بہتر بناتا ہے ۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.