the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

مانو میں قومی اردو سائنس کانگریس کا افتتاح۔ اسلم پرویز و دیگر کے خطابات
حیدرآباد، 8 فروری (پریس نوٹ) "زبانوں کا مذہب نہیں ہوتا، مذہب اور زبانیں توڑتی نہیں جوڑتی ہیں۔ قومی صحت کے لیے مذہبی اور لسانی تعصب سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ سائنس، ذہنی کشادگی، رواداری اور شخصیت پرستی سے انکار کا درس دیتی ہے۔ سائنسی تعلیم کے لیے انگریزی کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ اس لیے طلبہ کو انگریزی سکھانے کا انتظام یونیورسٹی میں کیا گیا ہے تاکہ اگر وہ اعلیٰ تعلیم انگریزی سے حاصل کرنا چاہیں یا کہیں ملازمت کی تلاش میں جائیں تو انھیں دقت نہ ہو۔"ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آج دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
سائنس کانگریس کا اہتمام اردو مرکز برائے فروغ علوم اور اسکول برائے سائنسی علوم کے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ 
وائس چانسلر نے کہا کہ "اُردو کے فروغ میں اردو سائنس کانگریس کی حیثیت ایک سنگ میل کی ہے۔ گذشتہ سال مانو میں منعقدہ پہلی اردو سائنس کانگریس کا ثمر اب حاصل ہو رہا ہے۔ توضیحی فرہنگ حیوانیات و حشریات جسے جناب شمس الاسلام فاروقی نے مرتب و مدون کیا ہے آج ہمارے ہاتھوں میں ہے اور اس نوعیت کی مزیدکئی کتابیں زیر طبع ہیں۔ "
انھوں نے کہا کہ دہلی کالج میں مولوی ذکا ءاللہ اور ماسٹر رام چندر نے اردو میں سائنسی علوم کی کتابوں کی منتقلی کا کام شروع کیا تھا۔ بعد میں سائنٹفک سوسائٹی اور دیگر اداروںنے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے 1928 میں انجمن ترقی اردو کے بینر تلے "سائنس" کے نام سے سہ ماہی پرچہ نکالا تھا ۔ "مجھے طالب علمی کے زمانے میں اردو میں سائنسی مواد کی کمی کا شدت سے احساس ہوا۔ اسی احساس کے تحت میں نے اردو میں سائنسی موضوعات پر لکھنا شروع کیا۔ انجمن فروغ سائنس کے قیام کے پس پشت بھی یہی مقصد تھا۔ اردو کی نئی نسل کو سائنسی موضوعات سے متعارف کرانے اور ان میں سائنس کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی غرض سے میں نے پچیس برس پہلے ماہنامہ "سائنس" جاری کیا۔ مجھے نہایت خوشی اور اطمینان ہے کہ میری کوشش بیکار نہیں گئی۔ اس رسالے نے اردو قارئین میں اپنی جگہ بنائی اور اس کے پڑھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ شخصیت پرستی کی بجائے آج اردو میں سائنس کے فروغ کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔"
سائنس کانگریس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوںنے بتایا کہ پہلی سائنس کانگریس دہلی، دوسری علی گڑھ اور تیسری کانگریس مانو میںمنعقد کی گئی تھی۔ اسے اردو یونیورسٹی میںمنتقل کرتے ہوئے، اہل حیدرآباد کی اردو سے محبت کے باعث یقین ہے کہ سائنس کانگریس کی روایت ان کے (اسلم پرویز) جانے کے بعد بھی برقرار رہے گی۔
ڈاکٹر ایم اے سکندر، رجسٹرار مانو نے سائنس کانگریس کے مندوبین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے مقاصد میں اردو کا فروغ بھی شامل ہے۔اس کانگریس کے انعقاد سے اردو میں سائنسی موضوعات پر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
اس موقع پرآٹھ سائنسی کتابوں کی رسم اجرا عمل میں آئی۔نظامت ترجمہ و اشاعت کی شائع کردہ پہلی کتاب پہلی کتاب" توضیحی فرہنگ: فرہنگِ حیوانیات و حشریات از ڈاکٹر شمس الاسلام فاروقی کا سب سے پہلے اجرا عمل میں آیا۔ مرتب کا پیام جناب انیس احسن اعظمی نے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد "پانی جنگل اور زمین" از پروفیسر جمال نصرت، ناول "وقت کی پکار" از ڈاکٹر حاجی ابو الکلام ،" فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس" کا دوسرا ایڈیشن از ڈاکٹر عابد معز؛ "آو191 سائنسی خط لکھیں"از عبد الودود انصاری،" سائنسی ردا "از ڈاکٹر رفیع الدین ناصر، "تجربات حیاتیات" از محترمہ رفعت النسا قادری ،" کمپیوٹر کی دنیا "از ڈاکٹر خورشید اقبال کی رسم اجرا انجام دی گئی۔
مہمان خصوصی جناب شاہ شمس الدین عثمانی تبریز ، پرنسپل ایمیریٹس، انگلش اسپیکنگ اسکول، دبئی جو خصوصی طور پر کانگریس میں شرکت کے لیے حیدرآباد آئے تھے نے کہا کہ نام نہیں ،کام کی اہمیت ہے۔ سنجیدہ لوگوں میں سے کچھ دیوانوں نے اردو کو سائنس سے جوڑنے کی کوشش کی۔اردو کو ترقی سے ہم کنار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے چاہنے والے دیوانہ وار کام کریں ۔ اس دیوانگی کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے نئی نسل پر پورا بھروسا ہے کہ وہ یہ کام ضرور سر انجام دے گی۔ 
ڈاکٹر آنند راج ورما، سابق پرنسپل انوار العلوم کالج نے کہا کہ وائس چانسلر نے گذشتہ ڈھائی سال میں جو کارنامے انجام دیے ہیں وہ دوسری جامعات کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔انھوں نے ہر مندوب کی سائنس کے کس شعبے میں دلچسپی ہے، کا ریکارڈ تیار کرنے اور مقتدرہ قومی زبان ،پاکستان سے شائع کتاب قاموس، اصطلاحات میں ترمیم و اضافہ کرنے کا مشورہ دیا۔ 
ڈاکٹر ظفر احسن، سابق استادعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بھی جلسہ میں خطاب کیا۔ڈاکٹر عابد معز نے سائنس کانگریس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور بتایا کہ اس مرتبہ جملہ 77 مقالے موصول ہوئے جو دو دنوں تک جاری کانگریس کے 12اجلاسوںمیں پیش کیے جائیں گے۔پروفیسر سید نجم الحسن، ڈین اسکول برائے سائنسی علوم نے شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین، انچارج مرکز برائے مطالعاتِ نسواں نے کارروائی چلائی اور اسلامک اسٹڈیز کے پی ایچ ڈی اسکالر سید عبدالرشید نے قرات کلام پاک و ترجمہ پیش کیا۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

کون جیتے گا ایشیا کپ 2018 ٹرافی

انڈیا
پاکستان
بنگلہ دیش
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.