the etemaad urdu daily news
آیت شریف حدیث شریف وقت نماز

ای پیپر

To Advertise Here
Please Contact
editor@etemaaddaily.com

نظام آباد:27؍ جون ( اعتماد نیوز) ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ تعلیم جی جگدیش ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ یونیورسٹی کے مقام کو اونچا اٹھانے درکار تمام اقدامات روبہ عمل لائیے جائیں گے ۔ آج ڈچپلی میں واقع تلنگانہ یونیورسٹی ریاستی وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی کے ہمراہ مہمان خصوصی کے طورپر ریاستی وزیر اعلیٰ تعلیم نے یونیورسٹی کے باب الداخلہ، یونیورسٹی کالج آرٹس کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ ، یونیوروسٹی کالج آف کی نو تعمیر کردہ عمارتوں کا افتتاح انجام دیا۔ سنٹرل لائبریری عمارت کے تعمیری کاموں سنگ بنیاد رکھا گیا اس موقع پر ریاستی وزیر اعلیٰ تعلیم جگدیش ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد مختلف مقامات کے مسائل سے واقفیت کیلئے دورہ کئے جارہے ہیں بالخصوص شعبہ تعلیم کے مختلف مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی مسائل کی یکسوئی کیلئے اقدامات حکومت کے پیش نظر ہے بالخصوص ریاست تلنگانہ میں تلنگانہ یونیورسٹی کے بشمول نلگنڈہ،پالمورہ میں بھی یونیورسٹی کی صورتحال قابل رحم ہے ان یونیورسٹیوں کی ترقی کے بشمول عثمانیہ یونیورسٹی کی طرز پر ترقی دینے کے تمام تر اقدامات روبہ عمل لائیے جائیں گے اس یونیورسٹی کو خصوصی پرائمری لیڈس ہاسٹل، انجینئرنگ کورسس کا آغاز عمل میں لایا جائیگا خانگی تعلیمی اداروں کے برخلاف سرکاری تعلیمی اداروں میں بہترین تعلیم فراہم کی جاتی ہے ان مواقعوں سے نوجوانوں کو استفادہ حاصل کرنے اور اعلیٰ مقام پر مقام بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے جی تا پی جی تک مستحق طلباء میں مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے حکومت سنجیدہ ہے آئی ٹی آئی آر کے قیام کے باعث لاکھوں روزگار کے مواقع ہمارے تلنگانہ کے نوجوانوں کو حاصل ہوں گے تلنگانہ ریاست کی عوام کی امیدوں کو پورا کرنے 24 گھنٹے خدمات انجام دی جائے گی اور تمام امیدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاست کی تشکیل عمل میں آنے کے بعد عوام کو متحدہ طورپر ریاست کی تعمیر نو کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ ریاستی وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کو زرعی شعبہ میں اونچا اٹھانے کیلئے سنجیدہ اقدامات روبہ عمل میں لائیے جائیں گے۔ تلنگانہ کے نوجوانوں کو دوبارہ نا انصافی نہ ہونے دینے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کا انہوں نے تیقن دیااور کہا کہ تلنگانہ یونیورسٹی کو ایک بہتر جامع کی حیثیت سے ترقی دینے نوجوانوں کو باقاعدہ طورپر جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی بے قاعدگیوں کو دور کرنے کی طرف انہوں نے سنجیدہ اقدامات کا تیقن دیا ۔ عہدیداروں پر الزامات عائد نہ ہونے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا۔ گوداوری کرشنا کے پانی سے تلنگانہ کی اراضی کی سیرابی عوامی امیدوں، تجاویزات کو پورا کرنے ، 32لاکھ کسانوں کو 20 ہزار کروڑ روپئے زرعی قرض کی معافی کے علاوہ سنہری تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو آگے بڑھانے 2.64لاکھ کسانوں کو قرضہ جات کی معافی عمل میں لائی جائے گی۔ شعبہ تعلیم میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں لاتے ہوئے منصوبہ تیار کرنے کا انہوں نے اظہار کیا۔ رکن اسمبلی نظام آباد رورل نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ تمام منتخب عوامی نمائندوں کے ہمراہ یونیورسٹی کی ترقی کیلئے 100 کروڑ روپئے فنڈس منظور کرائیے جائیں گے۔ طلباء کو بہترین تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے آگے بڑھنے،نظام آبادکوآپریٹو شوگر فیکٹری کی دوبارہ احیاء کیلئے 11 کروڑ روپئے فنڈس منظورکرنے، ڈچپلی تا نظام آباد تک 4لائن سڑک اور سنٹرل لائٹنگ کے قیام کی ضرورت پرزور دیا۔ رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ یونیورسٹی کو ٹاپ 10 جامعات میں شامل کرنے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ بھکنور میں عثمانیہ یونیورسٹی شعبہ کیلئے فنڈس منظور کرنے اور سہولتوں کی فراہمی کا انہوں نے تیقن دیا۔ علاوہ ازیں کے کویتا نے کہا کہ نظام آباد شہر میں ڈگری کالج برائے اناس کی منظوری کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ یونیورسٹی کو بیرونی یونیورسٹیوں سے الحاق کرتے ہوئے طلباء کو فارن ڈگری کے حصول کے اقدامات کئے جائیں گے۔ پروگرام میں ارکان قانون ساز کونسل وی جی گوڑ، سدھاکر ریڈی، رکن اسمبلی کاماریڈی گمپا گوردھن، وائس چانسلر تلنگانہ یونیورسٹی پروفیسر محمد اکبر علی خان، پرنسپل تلنگانہ یونیورسٹی لمبادری نے بھی خطاب کیا۔ اس پروگرام میں انچارج ضلع کلکٹر وینکٹیشور راؤ، رکن اسمبلی نظام آباد اربن گنیش گپتا، رکن اسمبلی یلاریڈی ای رویندرریڈی، رکن اسمبلی جکل ہنمنت شنڈے، رکن اسمبلی بالکنڈہ پرشانت ریڈی، رکن اسمبلی آرمور جیون ریڈی، صدرنشین ڈی سی ایم ایس ایم کے مجیب الدین، نڑپلی سرپنچ انجنیا، سدا پلی سرپنچ نامدیوکے علاوہ ٹی ارایس پارٹی قائدین عبدالرحیم سیفی و دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

اس پوسٹ کے لئے کوئی تبصرہ نہیں ہے.
تبصرہ کیجئے
نام:
ای میل:
تبصرہ:
بتایا گیا کوڈ داخل کرے:


Can't read the image? click here to refresh
http://st-josephs.in/

اوپینین پول

اتر پردیش میں کیا یہ شہروں کے نام تبدیل کرنا درست ہے اللہ آباد اور فیض آباد سے پرايگراج اور ایودھیا

ہاں
نہیں
بالکل نہیں
http://www.darussalambank.com

موسم کا حال

حیدرآباد

etemaad rishtey - a muslim matrimony
© 2018 Etemaad Urdu Daily, All Rights Reserved.